ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / ساحلی خبریں / اصلاحی اقدامات کو لے کر سپریم کورٹ کے فیصلے پر بی سی سی آئی میں ختم نہیں ہورہی ہے بحث 

اصلاحی اقدامات کو لے کر سپریم کورٹ کے فیصلے پر بی سی سی آئی میں ختم نہیں ہورہی ہے بحث 

Sun, 21 Aug 2016 20:40:48    S.O. News Service

نئی دہلی، 21؍اگست(ایس او نیوز ؍آئی این ایس انڈیا )بی سی سی آئی میں اصلاح پسندانہ اقدامات کو لے کر سپریم کورٹ کے تاریخی فیصلے کے ایک مہینے کے بعد بھی اسے لے کر بحث ختم ہوتی دکھائی نہیں دے رہی کیونکہ کچھ ماہرین نے اسے براہ راست طور پر غیر آئینی قرار دیا ہے جبکہ دیگر لوگوں کا خیال ہے کہ اس قانون کی بنیاد ہے کیونکہ اس سے عوام کی دلچسپی اور عوام کا پیسہ جڑا ہوا ہے۔بی سی سی آئی نے سپریم کورٹ کے فیصلے پرتجاویز دینے اور اپنا موقف رکھنے کے لیے سپریم کورٹ کے سابق جج جسٹس مارکنڈے کاٹجو کو منتخب کیا ہے جنہوں نے مبینہ طور پر اس فیصلے کو غیر آئینی قرار دیا ہے۔حالانکہ سفارش کرنے والے ججوں کے پینل کے سربراہ سابق چیف جسٹس آرا یم لوڑھا نے اس پر رد عمل ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ اس تنازعہ پر سپریم کورٹ کا فیصلہ حتمی ہے۔انہیں معروف آئینی ماہر گووند گوئل کی بھی حمایت حاصل ہے جنہوں نے کہا کہ سپریم کورٹ کو بورڈ کے معاملات کو دیکھنے کا مکمل اختیار ہے کیونکہ عوام کی دلچسپی اور پیسہ اس سے جڑے ہوئے ہیں۔گوئل کو حالانکہ صرف اتنا اندیشہ ہے کہ فیصلہ دینے کے بعد اس معاملے کو لوڑھا کمیٹی پر نہیں چھوڑا جانا چاہیے تھا اور عدالت کو حکومت سے کہنا چاہیے تھا کہ سفارشات کو آگے بڑھانے کے لیے کھیل کے ماہرین کی خدمات لے کر وہ اپنی ایجنسیوں کو اس معاملے میں شامل کریں۔گوئل نے ساتھ ہی سپریم کورٹ کے فیصلے پر بی سی سی آئی کو مشورہ دینے اور اس کی رہنمائی کے لیے جسٹس کاٹجو کی طرف سے چار رکنی کمیٹی کے سربراہ کی پیشکش کو قبول کرنے پر بھی خدشہ کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ آرٹیکل 124:7سپریم کورٹ کے سابق ججوں کو ہندوستان میں کسی بھی عدالت یا ٹریبونل کے سامنے موقف رکھنے سے روکتا ہے۔فیصلے کا جائزہ لینے کا مطالبہ کرنے والے بی سی سی آئی کو حالانکہ سینئر ایڈووکیٹ انوپ جارج چودھری کی حمایت ملی جنہوں نے اس فیصلے کو براہ راست طورپرغیرآئینی قرار دیا۔چودھری نے فیصلے پر رد عمل کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ یہ فیصلہ سابقہ آئینی بنچ کے فیصلوں کو سامنے رکھتے ہوئے نہیں دیا گیا ہے جو دو ججوں کی بنچ کے لیے ضروری تھا۔سپریم کورٹ کے فیصلے کو لے کر جاری بحث کافی اہم ہے کیونکہ بی سی سی آئی نے نظر ثانی درخواست دائر کی ہے جبکہ کرکٹ ایسوسی ایشن آف بہار نے اپنے سکریٹری آدتیہ ورماکے ذریعے بی سی سی آئی کے عہدیداروں کے خلاف مبینہ طورپرتوہین کے بیان کے لیے توہینِ عدالت کی درخواست دائرکی ہے۔


Share: